Surah Al-'Adiyat • Ayah 4
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ(In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.Swearing by the Horses of War about the Ungratefulness of Man and His Zeal for WealthAllah swears by the horses when they are made to gallop into battle in His path (i.e., Jihad), and thus they run and pant, which is the sound that is heard from the horse when it runs.فَالمُورِيَـتِ قَدْحاً(Striking sparks of fire.) meaning, the striking of their hooves on the rocks, which causes sparks of fire to fly from them.فَالْمُغِيرَتِ صُبْحاً(And scouring to the raid at dawn.) meaning, the raid that is carried out in the early morning time. This is just as the Messenger of Allah ﷺ used to perform raids in the early morning. He would wait to see if he heard the Adhan (call to prayer) from the people. If he heard it he would leave them alone, and if he didn't hear it he would attack. Then Allah says,فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً(And raise the dust in clouds the while.) meaning, dust at the place of the battle with the horses.فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً(And penetrating forthwith as one into the midst.) means, then are all in the middle of that spot, together. Allah's saying;فَالْمُغِيرَتِ صُبْحاً(And scouring to the raid at dawn.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah, all said, "This means the invasion of the horses in the morning in the way of Allah." And His statement,فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً(And raise the dust in clouds the while.) This is the place in which the attack takes place. The dust is stirred up by it. And His statement,فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً(And penetrating forthwith as one into the midst.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, `Ata, `Ikrimah, Qatadah and Ad-Dahhak that they all said, "This means into the midst of the disbelieving enemy." Concerning Allah's statement,إِنَّ الإِنسَـنَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ(Verily, man is ungrateful (Kanud) to his Lord.) This is the subject what is being sworn about, and it means that he (man) is ungrateful for the favors of His Lord and he rejects them. Ibn `Abbas, Mujahid, Ibrahim An-Nakha`i, Abu Al-Jawza', Abu Al-`Aliyah, Abu Ad-Duha, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Qays, Ad-Dahhak, Al-Hasan, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Zayd all said, "Al-Kanud means ungrateful." Al-Hasan said, "Al-Kanud is the one who counts the calamities (that befall him) and he forgets Allah's favors."Concerning Allah's statement,وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ(And to that He bears witness.) Qatadah and Sufyan Ath-Thawri both said, "And indeed Allah is a witness to that." It is also possible that the pronoun (He) could be referring to man. This was said by Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi. Thus, its meaning would be that man is a witness himself to the fact that he is ungrateful. This is obvious in his condition, meaning this is apparent from his statements and deeds. This is as Allah says,مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ الله شَـهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ(It is not for the idolators, to maintain the Masajid of Allah, while they witness disbelief against themselves.) (9:17) Allah said;وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ(And verily, he is violent in the love of wealth.) meaning, and indeed in his love of the good, which is wealth, he is severe. There are two opinions concerning this. One of them is that it means that he is severe. There are two opinions concerning this. One of them is that it means that he is severe in his love of wealth. The other view is that it means he is covetous and stingy due to the love of wealth. However, both views are correct.The Threat about the HereafterThen Allah encourages abstinence from worldly things and striving for the Hereafter, and He informs of what the situation will be after this present condition, and what man will face of horrors. He says,أَفَلاَ يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى الْقُبُورِ(Knows he not that when the contents of the graves are poured forth) meaning, the dead that are in it will be brought out.وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُورِ(And that which is in the breasts shall be made known) Ibn `Abbas and others have said, "This means what was in their souls would be exposed and made apparent."إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ(Verily, that Day their Lord will be Well-Acquainted with them.) meaning, He knows all of that they used to do, and He will compensate them for it with the most deserving reward. He does not do even the slightest amount of injustice. This is the end of the Tafsir of Surat Al-`Adiyat, and all praise and thanks are due to Allah.
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔10796سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔10797مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔10798امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔10799ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔ پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10800
آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔
Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear.The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of 'ungratefulness to favours and bounties' and hence the expression kanud means 'ungrateful'.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.