Surah Yunus • Ayah 59
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
None can make Anything Lawful or Unlawful except Allah or Those Whom Allah has allowed to do soIbn `Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others said: "This Ayah was revealed to criticize the idolators for what they used to make lawful and unlawful. Like the Bahirah, Sa'ibah and Wasilah." As Allah said: وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً(And they assign to Allah a share of the tilth and cattle which He has created.)6:136 Imam Ahmad recorded a narration from Malik bin Nadlah who said, "I came to Allah's Messenger while in filthy clothes. He said, «هَلْ لَكَ مَالٌ؟»(Do you have wealth) I answered, `Yes.' He said, «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟»(what kind of wealth) I answered, `All kinds; camels, slaves, horses, sheep.' So he said, «إِذَا آَتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْك»(If Allah gives you wealth, then let it be seen on you.) Then he said, «هَلْ تُنْتَجُ إِبْلُكَ صِحَاحًا آذَانُهَا، فَتَعْمِدَ إِلَى مُوسًى فَتَقْطَعَ آذَانَهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بُحْرٌ، وَتَشُقُّ جُلُودَهَا وَتَقُولُ: هَذِهِ صُرُمٌ، وَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِك»؟ (It is not that your camels are born with healthy ears, you take a knife and cut them, then say, "This is a Bahr," tear its skin, then say, `This is a Sarm," and prohibit them for yourself and your family) I replied, `Yes.' He said, «فَإِنَّ مَا آتَاكَ اللهُ لَكَ حِلٌّ، سَاعِدُ اللهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى الله أَحَدُ مِنْ مُوسَاك»(What Allah has given you is lawful. Allah's Forearm is stronger than your forearm, and Allah's knife is sharper then your knife.)" And he mentioned the Hadith in its complete form, and the chain for this Hadith is a strong, good chain. Allah criticized those who make lawful what Allah has made unlawful or vice verse. This is because they are based on mere desires and false opinions that are not supported with evidence or proof. Allah then warned them with a promise of the Day of Resurrection. He asked: وَمَا ظَنُّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ(And what think those who invent a lie against Allah, on the Day of Resurrection) What do they think will happen to them when they return to Us on the Day of Resurrection Ibn Jarir said that Allah's statement: إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ(Truly, Allah is full of bounty to mankind,) indicated that the bounty is in postponing their punishment in this world. I (Ibn Kathir) say, the meaning could be that the Grace for people is in the good benefits that He made permissible for them in this world or in their religion. He also has not prohibited them except what is harmful to them in their world and the Hereafter. وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَشْكُرُونَ(but most of them are ungrateful.) So they prohibited what Allah has bestowed upon them and made it hard and narrow upon themselves. They made some things lawful and others unlawful. The idolators committed these actions when they set laws for themselves. And so did the People of the Book when they invented innovations in their religion.
بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت ٭٭مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَائِنَا» [6-الأنعام:136] ” اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں “۔ مسند احمد میں ہے عوف بن مالک بن فضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کس قسم کا مال؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے رکھا ہے تو اس کا اثر بھی تیرے جسم پر ظاہر ہونا چاہیئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تیرے ہاں اونٹنیاں بچے بھی دیتی ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں پھر تو اپنے ہاتھ میں چھری لے کر کسی کا کان کاٹ کے اس کا نام بحیرہ رکھ لیتا ہے۔ کسی کی کھال کاٹ کر حرام نام رکھ لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے اوپر اور اپنے والوں پر حرام سمجھ لیتا ہے؟ میں نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن اللہ نے تجھے جو دیا ہے وہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بازو تیرے بازو سے قوی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چھری تیری چھری سے بہت زیادہ تیز ہے ۔ [سنن ابوداود:4063:صحیح] اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کے فعل کی پوری مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنی طرف سے بغیر شرعی دلیل کے کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں۔ انہیں اللہ نے قیامت کے عذاب کے سے دھمکایا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ان کا کیا خیال ہے؟ یہ کس ہوا میں ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ یہ بے بس ہو کر قیامت کے دن ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے “۔صفحہ نمبر3721اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر اپنا فضل و کرم ہی کرتا ہے، وہ دنیا میں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ اسی کا فضل ہے کہ اس نے دنیا میں بہت سی نفع کی چیزیں لوگوں کے لیے حلال کر دی ہیں، صرف انہیں چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو بندوں کو نقصان پہنچانے والی اور ان کے حق میں مضر ہیں۔ دنیوی طور پر یا اُخروی طور پر۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کر کے اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اپنی جانوں کو خود تنگی میں ڈالتے ہیں۔ مشرک لوگ اسی طرح از خود احکام گھڑ لیا کرتے تھے اور انہیں شریعت سمجھ بیٹھتے تھے۔ اہل کتاب نے بھی اپنے دین میں ایسی ہی بدعتیں ایجاد کرلی تھیں۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے قیامت کے دن اولیاء اللہ کی تین قسمیں کر کے انہیں جناب باری کے سامنے لایا جائے گا۔ پہلے قسم والوں میں سے ایک سے سوال ہو گا کہ تم لوگوں نے یہ نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دیں گے کہ پروردگار تو نے جنت بنائی اس میں درخت لگائے، ان درختوں میں پھل پیدا کئے، وہاں نہریں جاری کیں، حوریں پیدا کیں اور نعمتیں تیار کیں، پس اسی جنت کے شوق میں ہم راتوں کو بیدار رہے اور دنوں کو بھوک پیاس اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو تمہارے اعمال جنت کے حاصل کرنے کے لیے تھے۔ میں تمہیں جنت میں جانے کی اجازت دیتا ہوں اور یہ میرا خاص فضل ہے کہ جہنم سے تمہیں نجات دیتا ہوں۔ گو یہ بھی میرا فضل ہی ہے کہ میں تمہیں جنت میں پہنچاتا ہوں پس یہ اور اس کے سب ساتھی بہشت بریں میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر دوسری قسم کے لوگوں میں سے ایک سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ نیکیاں کیسے کیں؟ وہ کہے گا پروردگار تو نے جہنم کو پیدا کیا۔ اپنے دشمنوں اور نافرمانوں کے لیے وہاں طوق و زنجیر، حرارت، آگ، گرم پانی اور گرم ہوا کا عذاب رکھا وہاں طرح طرح کے روح فرسا دکھ دینے والے عذاب تیار کئے۔صفحہ نمبر3722پس میں راتوں کو جاگتا رہا، دنوں کو بھوکا پیاسا رہا، صرف اس جہنم سے ڈر کر تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے تجھے اس جہنم سے آزاد کیا اور تجھ پر میرا یہ خاص فضل ہے کہ تجھے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں پس یہ اور اس کے ساتھی سب جنت میں چلے جائیں گے پھر تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے نیکیاں کیوں کیں؟ وہ جواب دے گا کہ صرف تیری محبت میں اور تیرے شوق میں۔ تیری عزت کی قسم میں راتوں کو عبادت میں جاگتا رہا اور دنوں کو روزے رکھ کر بھوک پیاس سہتا رہا، یہ سب صرف تیرے شوق اور تیری محبت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ اعمال صرف میری محبت اور میرے اشتیاق میں ہی کئے۔ لے اب میرا دیدار کر لے۔ اسوقت اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو اپنا دیدار کرائے گا، فرمائے گا دیکھ لے، یہ ہوں میں، پھر فرمائے گا یہ میرا خاص فضل ہے کہ میں تجھے جہنم سے بچاتا ہوں اور جنت میں پہنچاتا ہوں میرے فرشتے تیرے پاس پہنچتے رہیں گے اور میں خود بھی تجھ پر سلام کہا کروں گا، پس وہ مع اپنے ساتھیوں کے جنت میں چلا جائے گا۔صفحہ نمبر3723
قُلْ ا آ للّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ سورۃ الانعام میں ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جنہیں وہ لوگ ازخود حرام یا حلال قرار دے لیتے تھے۔ سورة المائدۃ میں بھی ان کی خود ساختہ شریعت کا ذکر ہے۔
In the third verse (59), warning has been given to people who introduce their personal opinion in the serious matter of Halal (lawful) and Haram (unlawful). They would, at will, declare something to be Halal and dub something to be Haram - without any authority of the Qur'an, and Sunnah. A severe warning of no less a punishment than that of the day of Qiyamah has been given to those who commit this crime (60). This tells us that the fact of something being Halal or Haram does not depend on human opinion. Instead of that, it is the special right and prerogative of Allah Ta` ala and His Messenger. Without their injunctions, it is not permissible to call something either حلال Halal or حرام Haram.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.