The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Yunus • Ayah 22

Para 11 Surah 10 : 22
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

هُوَ
ٱلَّذِى
يُسَيِّرُكُمْ
فِى
ٱلْبَرِّ
وَٱلْبَحْرِ
ۖ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
كُنتُمْ
فِى
ٱلْفُلْكِ
وَجَرَيْنَ
بِهِم
بِرِيحٍ
طَيِّبَةٍ
وَفَرِحُوا۟
بِهَا
جَآءَتْهَا
رِيحٌ
عَاصِفٌ
وَجَآءَهُمُ
ٱلْمَوْجُ
مِن
كُلِّ
مَكَانٍ
وَظَنُّوٓا۟
أَنَّهُمْ
أُحِيطَ
بِهِمْ
ۙ
دَعَوُا۟
ٱللَّهَ
مُخْلِصِينَ
لَهُ
ٱلدِّينَ
لَئِنْ
أَنجَيْتَنَا
مِنْ
هَـٰذِهِۦ
لَنَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلشَّـٰكِرِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Man changes when He receives Mercy after Times of DistressAllah tells us that when He makes men feel His mercy after being afflicted with distress,إِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِى ءايَـتِنَا(They take to plotting against Our Ayat.) The coming of mercy after distress is like the coming of ease after hardship, fertility after aridity, and rain after drought. Mujahid said that man's attitude indicates a mockery and belying of blessings. The meaning here is similar to Allah's statement:وَإِذَا مَسَّ الإِنسَـنَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًا(And when harm touches man, he invokes Us, lying on his side, or sitting or standing.)(10:12) Al-Bukhari recorded that Allah's Messenger ﷺ led the Subh (Dawn) prayer after it had rained during the night, then he said:«هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ؟»(Do you know what your Lord has said last night) They replied, "Allah and His Messenger know better." He said:«قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَاكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَب»(Allah said; "This morning, some of My servants have become believers and some disbelievers in Me. He who said: `We have had this rainfall due to the grace and mercy of Allah' is a believer in Me and a disbeliever in the stars. And he who said `we have had this rainfall due to the rising of such and such star' is a disbeliever in Me and a believer in the stars.) The Ayah:قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا(Say: "Allah is more swift in planning!") means that Allah is more capable of gradually seizing them with punishment, while granting them concession of a delay until the criminals think that they would not be punished. But in reality they are in periods of respite, then they will be taken suddenly. The noble writers (meaning the angels who write the deeds) will write everything that they do and keep count of their deeds. Then they will present it before the All-Knowing of the seen and unseen worlds. The Lord will then reward them for the significant deeds and even the seemingly insignificant that may be as tiny as a spot on a date pit. Allah further states:هُوَ الَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ(He it is Who enables you to travel through land and sea...) which means that He preserves you and maintains you with His care and watching.حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِى الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُواْ بِهَا(Till when you are in the ships, and they sail with them with a favorable wind, and they are glad therein...) meaning smoothly and calmly;جَآءَتْهَا(then comes (these ships))رِيحٌ عَاصِفٌ(a stormy wind)وَجَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍo(and the waves come to them from all sides, )وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ(and they think that they are encircled therein) meaning that are going to be destroyed.دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ(Then they invoke Allah, making their faith pure for Him (alone)) meaning that in this situation they would not invoke an idol or statue besides Allah. They would single Him out alone for their supplications and prayers. This is similar to Allah's statement:وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him (Allah alone). But when He brings you safe to land, you turn away (from Him). And man is ever ungrateful.) 17:67 And in this Surah, He says:دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَـذِهِ(They invoke Allah, making their faith pure for Him (saying): "If You (Allah) deliver us from this (situation).")لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّـكِرِينَ("We shall truly, be of the grateful.") This means that we will not ascribe others as partners with You. We will later worship You alone as we are praying to You here and now. Allah states;فَلَمَّآ أَنجَاهُمْ(But when He delivers them) from that distress,إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ(behold! They rebel (disobey Allah) in the earth wrongfully...) meaning: they returned as if they had never experienced any difficulties and had never promised Him anything. So Allah said:كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ(He passes on as if he had never invoked Us for a harm that touched him!)10:12 Allah then said:يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنفُسِكُمْ(O mankind! Your rebellion (disobedience to Allah) is only against yourselves,) it is you yourselves that will taste the evil consequence of this transgression. You will not harm anyone else with it, as comes in the Hadith,«مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرَ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ اللهُ لِصَاحِبِهِ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِم»(There is no sin that is more worthy that Allah hasten punishment for in this world -- on top of the punishment that Allah has in store for it in the Hereafter -- than oppression and cutting the ties of the womb.) Allah's statement:مَّتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(a brief enjoyment of this worldly life...) means that you only have a short enjoyment in this low and abased worldly life.ثُمَّ إِلَينَا مَرْجِعُكُمْ(then (in the end) unto Us is your return...) meaning your goal and final destination.فَنُنَبِّئُكُمْ(and We shall inform you) of all your deeds. Then we shall recompense you for them. So let him who finds good (in his record) praise Allah, and let him who finds other than that blame no one but himself.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

احسان فراموش انسان ٭٭انسان کی ناشکری کا بیان ہو رہا ہے کہ ” اسے سختی کے بعد کی آسانی، خشک سالی کے بعد کی ترسالی، قحط کے بعد کی بارش اور بھی ناشکرا کر دیتی ہے یہ ہماری آیتوں سے مذاق اڑانے لگتا ہے۔ کیا تو اس وقت ہماری طرف ان کا جھکنا اور کیا اس وقت ان کا اکڑنا نہیں دیکھتا “۔ رات کو بارش ہوئی، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر پوچھا جانتے بھی ہو رات کو باری تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں کیا خبر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ارشاد ہوا ہے کہ صبح کو میرے بہت سے بندے ایماندار ہو جائیں گے اور بہت سے کافر۔ کچھ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے اور ستاروں کی ایسی تاثیروں کے منکر ہو جائیں گے اور کچھ کہیں گے کہ فلاں فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش برسائی گئی وہ مجھ سے کافر ہو جائیں گے اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے بن جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:846] ‏ یہاں فرماتا ہے کہ ” جیسے یہ چالبازی ان کی طرف سے ہے۔ میں بھی اس کے جواب سے غافل نہیں انہیں ڈھیل دیتا ہوں۔ یہ اسے غفلت سمجھتے ہیں پھر جب پکڑ آ جاتی ہے تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں۔ میں غافل نہیں۔ میں نے تو اپنے امین فرشتے چھوڑ رکھے ہیں جو ان کے کرتوت برابر لکھتے جا رہے ہیں۔ پھر میرے سامنے پیش کریں گے میں خود دانا بینا ہوں لیکن تاہم وہ سب تحریر میرے سامنے ہو گی۔ جس میں ان کے چھوٹے بڑے بڑے بھلے سب اعمال ہوں گے۔ اسی اللہ کی حفاظت میں تمہارے خشکی اور تری کے سفر ہوتے ہیں۔ تم کشتیوں میں سوار ہو، موافق ہوائیں چل رہی ہیں۔ کشتیاں تیر کی طرح منزل مقصود کو جا رہی ہیں تم خوشیاں منا رہے ہو کہ یکایک باد مخالف چلی اور چاروں طرف سے پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ کھڑی ہوئیں “۔صفحہ نمبر3674 «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا» ‏ [17-الإسراء:67] ‏ سمندر میں تلاطم شروع ہو گیا، کشتی تنکے کی طرح جھکولے کھانے لگی اور تمہارے کلیجے الٹنے لگے، ہر طرف سے موت نظر آنے لگی، اس وقت سارے بنے بنائے معبود اپنی جگہ دھرے رہ گئے اور نہایت خشوع وخضوع سے صرف مجھ سے دعائیں مانگیں جانے لگیں وعدے کئے جانے لگے کہ اب کے اس مصیبت سے نجات مل جانے کے بعد شکر گزاری میں باقی عمر گزار دیں گے، توحید میں لگے رہیں گے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گے، آج سے خالص توبہ ہے۔ لیکن ادھر نجات ملی، کنارے پر اترے، خشکی میں چلے پھرے کہ اس مصیبت کے وقت کو اس خالص دعا کو پھر اقرار شکرو توحید کو یکسر بھول گئے اور ایسے ہو گئے گویا ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ ہم سے کبھی معاملہ ہی نہ پڑا تھا۔ ناحق اکڑفوں کرنے لگے، مستی میں آ گئے۔ لوگو! تمہاری اس سرکشی کا وبال تم پر ہی ہے۔ تم اس سے دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ گناہ جس پر یہاں بھی اللہ کی پکڑ نازل ہو اور آخر میں بھی بدترین عذاب ہو فساد و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ [سنن ابوداود4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ تم اس دنیائے فانی کے تھوڑے سے برائے نام فائدے کو چاہے اٹھالو لیکن آخر انجام تو میری طرف ہی ہے۔ میرے سامنے آؤ گے میرے قبضے میں ہو گے۔ اس وقت ہم خود تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر متنبہ کریں گے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے لہٰذا اچھائی پاکر ہمارا شکر کرو اور برائی دیکھ کر اپنے سوا کسی اور کو ملامت اور الزام نہ دو۔صفحہ نمبر3675

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 22 ہُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُکُمْ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط ”وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں۔“یعنی اللہ تعالیٰ نے مختلف قوانین طبعی کے تحت مختلف چیزوں کو سواریوں کے طور پر انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔حَتّٰیٓ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْْفُلْکِج وَجَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَّفَرِحُوْا بِہَا ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو ‘ اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں سواروں کو لے کر خوشگوار موافق ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں“جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ اُحِیْطَ بِہِمْلا ”کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے اور ہر طرف سے موجیں ان کی طرف بڑھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان لہروں میں گھیر لیے گئے ہیں“ہر طرف سے پہاڑ جیسی لہروں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب وہ لہروں میں گھر گئے ہیں اور ان کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَج لَءِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ ہٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ”اس وقت وہ پکارتے ہیں اللہ کو ‘ اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ اے اللہ ! اگرُ تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم لازماً ہوجائیں گے بہت شکر کرنے والوں میں سے۔“ایسے مشکل وقت میں انہیں صرف اللہ ہی یاد آتا ہے ‘ کسی دیوی یا دیوتا کا خیال نہیں آتا۔ اس سلسلے میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کے بارے میں بہت اہم واقعہ تاریخ میں ملتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ حجاز سے فرار ہو کر حبشہ جانے کے لیے بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار تھے کہ کشتی اچانک طوفان میں گھر گئی۔ کشتی میں تمام لوگ مشرکین تھے ‘ لیکن اس مصیبت کی گھڑی میں کسی کو بھی لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل یاد نہ آئے اور انہوں نے مدد کے لیے پکارا تو اللہ کو پکارا۔ اسی لمحے عکرمہ کو اس حقیقت کے انکشاف نے چونکا دیا کہ یہی تو وہ پیغام ہے جو محمد ﷺ ہمیں دے رہے ہیں۔ چناچہ وہ واپس لوٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور شرف صحابیت سے مشرف ہوئے۔ اس کے بعد یہی عکرمہ رض اسلام کے زبردست مجاہد ثابت ہوئے ‘ اور حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور خلافت میں منکرین زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف جہاد میں انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔دراصل اللہ کی معرفت انسان کی فطرت کے اندر سمو دی گئی ہے۔ بعض اوقات باطل خیالات و نظریات کا ملمع اس معرفت کی قبولیت میں آڑے آجاتا ہے ‘ لیکن جب یہ ملمع اترنے کا کوئی سبب پیدا ہوتا ہے تو اندر سے انسانی فطرت اپنی اصلی حالت میں نمایاں ہوجاتی ہے جو حق کو پہچاننے میں لمحہ بھر کو دیر نہیں کرتی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThe word: مَک (رح) ر (makr) used in verse 21: قُلِ اللَّـهُ أَسْرَ‌عُ مَكْرً‌ا (Say, "Allah is more swift in making plans" ) means secret plan or move that could be good or bad. Wherever this word has become a part of the local language, care should be taken that it is not rendered as ` deception'. For instance, in Urdu, the original language of this Commentary, it means just this. It is obvious that Allah Ta` ala is free from it. (1)(1) The English language has no such problems as the open sense of makr can be transmitted through ` plan' or ` move' (Translator)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.