The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Yunus • Ayah 17

Para 11 Surah 10 : 17
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَمَنْ
أَظْلَمُ
مِمَّنِ
ٱفْتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبًا
أَوْ
كَذَّبَ
بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ
ۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفْلِحُ
ٱلْمُجْرِمُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Obstinance of the Chiefs of the QurayshAllah tells us about the obstinance of the disbelievers of the Quraysh, who were opposed to the message and denied Allah. When the Messenger ﷺ read to them from the Book of Allah and His clear evidence they said to him: "Bring a Qur'an other than this." They wanted the Prophet to take back this Book and bring them another book of a different style or change it to a different form. So Allah said to His Prophet :قُلْ مَا يَكُونُ لِى أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَآءِ نَفْسِى(Say: "It is not for me to change it on my own accord;) This means that it is not up to me to do such a thing. I am but a servant who receives commands. I am a Messenger conveying from Allah.إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَىَّ إِنِّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ(I only follow that which is revealed unto me. Verily, I fear the torment of the Great Day (the Day of Resurrection) if I were to disobey my Lord.)The Evidence of the Truthfulness of the Qur'an Muhammad ﷺ then argued with supporting evidence to the truthfulness of what he had brought them:قُل لَّوْ شَآءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَدْرَاكُمْ بِهِ(Say: "If Allah had so willed, I should not have recited it to you nor would He have made it known to you...") This indicates that he brought this only with the permission and will of Allah for him to do so. The proof of this was that he had not fabricated it himself and that they were incapable of refuting it, and that they should be fully aware of his truthfulness and honesty since he grew up among them, until Allah sent the Message to him. The Prophet was never criticized for anything or held in contempt. So he said,فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُراً مِّن قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(Verily, I have stayed among you a lifetime before this. Have you then no sense) Which meant "don't you have brains with which you may distinguish the truth from falsehood" When Heraclius, the Roman king, asked Abu Sufyan and those who were in his company about the Prophet , he said: "Have you ever accused him of telling lies before his claim" Abu Sufyan replied: "No." Abu Sufyan was then the head of the disbelievers and the leader of the idolators, but he still admitted the truth. This is a clear and irrefutable testimony since it came from the enemy. Heraclius then said: "I wondered how a person who does not tell a lie about others could ever tell a lie about Allah." Ja`far bin Abu Talib said to An-Najashi, the king of Ethiopia: "Allah has sent to us a Messenger that we know his truthfulness, ancestral lineage, and honesty. He stayed among us before the prophethood for forty years."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

مجرم اور ظالموں کا سرغنہ ٭٭اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم، اسے زیادہ سرکش اور کون ہو گا؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کردے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی علیہ السلام اس سے غافل رہیں؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کر دیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا، جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات، حالات کا معائنہ کرنے والا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعویٰ ہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کے لیے گئے۔ میں بھی گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ لوگو سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاتے رہا کرو صلہ رحمی قائم رکھو، راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے ۔ [سنن ترمذي:2485قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏صفحہ نمبر3665 اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں سیدنا ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا گاڑنے ولا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ۔ اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ، تو اس نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا، ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں ۔ اسی طرح نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قسم کھا کر جواب دیا۔ تب اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ اس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا ۔ [صحیح بخاری:63] ‏ پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کرلی۔ اور جو دلائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے «لَوْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ آيَاتٌ مُبَيِّنَةٌ» «كَانَتْ بَدِيهَتُهُ تَأْتِيكَ بِالْخَبَرِ» صفحہ نمبر3666یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے۔ «فَصَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔ برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا، خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لیے، اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ رہا تھا اس کلام کی بدمزگی، اس کی بے کاری، تو اتنی ظاہر ہے کہ کلام کے سامنے پیش کئے جانے کے بھی قابل نہیں۔ لو اب تم ہی انصاف کرو، آیت الکرسی [البقرة:255] ‏ کے مقابلے میں اس ملعون نے یہ آیت بنائی تھی۔ «(‏يَا ضُفْدَعُ بِنْتَ الضُّفْدَعَيْنِ، نَقِّي كَمَا تُنَقِّينَ لَا الْمَاءُ تُكَدِّرِينَ، وَلَا الشَّارِبُ تَمْنَعِينَ)‏» ‏ یعنی اے مینڈکوں کے بچے مینڈک تو ٹراتا رہ۔ نہ تو پانی خراب کر سکے نہ پینے والوں کو روک سکے۔ اس طرح اس کے ناپاک کلام کے نمونے میں اس کی بنائی ایک اور آیت ہے کہ «(‏لَقَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى الْحُبْلَى، إِذْ أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَيْنِ صِفَاقٍ وَحَشَى)‏» ‏ اللہ نے حاملہ پر بڑی مہربانی فرمائی کہ اس کے پیٹ سے چلتی پھرتی جان برآمد کی، جھلی اور آنتوں کے درمیان سے۔ سورۃ الفیل کے مقابلے میں وہ پاجی کہتا ہے «(‏الْفِيلُ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْفِيلُ؟ لَهُ زُلْقُومٌ طَوِيلٌ)‏» ‏ یعنی ہاتھی اور کیا جانے تو کیا ہے ہاتھی؟ اس کی بڑی لمبی سونڈھ ہوتی ہے۔صفحہ نمبر3667والنازعات کا معارضہ کرتے ہوئے یہ کمینہ کہتا ہے «(‏وَالْعَاجِنَاتِ عَجْنًا، وَالْخَابِزَاتِ خَبْزًا، وَاللَّاقِمَاتِ لَقْمًا، إِهَالَةً وَسَمْنًا، إِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ)‏» یعنی آٹا گوندھنے والا اور روٹی پکانے والیاں، اور لقمے بنانے والیاں، سالن اور گھی سے، قریشی لوگ بہت آگے نکل گئے۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں؟ شریف انسان تو سوائے مذاق کے ایسی بات منہ سے بھی نہیں نکال سکتا پھر اس کا انجام دیکھئیے لڑائی میں مارا گیا، اس کا گروہ مٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں پر لعنت برسی۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاس خائب و خاسر ہو کر منہ پر مٹی مل کر پیش ہوئے اور رو دھو کر توبہ کر کے جوں جوں کر کے جان بچائی۔ پھر تو اللہ کے سچے دین کی چاشنی سے ہونٹ چوسنے لگے۔ ایک روز ان سے خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسیلمہ کا قرآن تو سناؤ تو بہت سٹ پٹائے بے حد شرمائے اور کہنے لگے ہمیں اس ناپاک کلام کے زبان سے نکالنے پر مجبور نہ کیجئے ہمیں تو اس سے شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں تو ضرور سناؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس کی رکاکت اور بے ہودگی معلوم ہو جائے۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نہایت ہی شرماتے ہوئے کچھ پڑھا جس کا نمونہ اوپر گزرا کہ کہیں میں مینڈک کا ذکر کہیں ہاتھی کا کہیں روٹی کا کہیں حمل کا۔ اور وہ سارے ہی ذکر بےسود بے مزہ اور بے کار۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آخر میں فرمایا یہ تو بتاؤ تمہاری عقلیں کہاں ماری گئیں تھیں؟ واللہ اسے تو کوئی بے وقوف بھی ایک لمحہ کے لیے کلام اللہ نہیں کہہ سکتا۔صفحہ نمبر3668مذکور ہے کہ عمرو بن العاص اپنے کفر کے زمانے میں مسیلمہ کے پاس پہنچا، یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اس سے پوچھا کہو عمرو تمہارے ہاں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آج کل جو وحی اتری ہو اس میں سے کچھ سنا سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم ایک مختصر سورت پڑھتے تھے جو میری زبان پر بھی چڑھ گئی لیکن بھائی اپنی مضمون کے لحاظ سے وہ سورت بہت بڑی اور بہت ہی اعلیٰ ہے اور لفظوں کے اعتبار سے بہت ہی مختصر اور بڑی جامع ہے۔ پھر اس نے سورۃ والعصر پڑھ سنائی۔ مسیلمہ چپکا ہوگیا بہت دیر کے بعد کہنے لگا مجھ پر اسی جیسی سورت اتری ہے۔ اس نے کہا ہاں تو بھی سنا دے تو اس نے پڑھا «(‏يَا وَبْرُ إِنَّمَا أَنْتِ أُذُنَانِ وَصَدْرٌ، وَسَائِرُكِ حَقْرٌ نَقْرٌ)‏» ‏ یعنی اے وبر جانور تیرے تو بس دو کان ہیں اور سینہ ہے، اور باقی جسم تو تیرا بالکل حقیر اور عیب دار ہے۔ یہ سنا کر عمرو سے پوچھتا ہے کہو دوست کیسی کہی؟ اس نے کہا دوست اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی اور کیسی کہی؟ پس جب کہ ایک مشرک پر بھی سچے جھوٹے کی تمیز مشکل نہ ہوئی تو ایک صاحب عقل تمیز دار اور بایمان پر کیسے یہ بات چھپ سکتی ہے؟ اس کا بیان «وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ» [6-الأنعام:93] ‏ میں ہے یعنی ” اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے یا اس کے طرف وحی نہ آنے کے باوجود وحی آنے کا دعویٰ کرنے والے سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں “۔ اسی طرح جو کہے کہ میں بھی اللہ کی طرح کا کلام اتار سکتا ہوں، مندرجہ بالا آیت میں بھی یہی فرمان ہے۔ پس وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے۔ حجت ظاہر ہو جانے پر بھی نہ مانے۔ حدیث میں ہے سب سے بڑا سرکش اور بدنصیب وہ ہے جو کسی نبی کو قتل کرے یا نبی اسے قتل کرے ۔ [مسند احمد32/4 [قال الشيخ الألباني:حسن] ‏صفحہ نمبر3669

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 17 فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط ”تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کی یا جھٹلایا اس کی آیات کو !“ یعنی یہ قرآن جو میں تم لوگوں کو سنا رہا ہوں ‘ اگر یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور میں اسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ‘ اور اگر یہ واقعتا اللہ کی آیات ہیں تو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے ‘ اس سے بڑھ کر ظالم اور گنہگار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اب اس معیار حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کا جائزہ لے اور دیکھے کہ وہ کون سی روش اختیار کر رہا ہے۔ اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ”یقیناً مجرم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The last verse (17) emphasizes the subject conclusively by warning that attributing any statement to Allah Ta` ala that was not His Word, or denying what actually was, were crimes deserving severe punishment.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.